One's personality is both a composition and reflection, but if I have to choose one of them, I will choose reflection as the "self" is more important to me than "me". One's composition may change, walking across the cultural landscapes and climbing the social ladder but one's self is tied to one's reflections. The fun part is that reflections are not bound to "Time-Space" barriers ( it is not time-space) and respective mental constructs, which have grown so thick over ages, that they had reduced the image of humans to Sisyphus, rolling different sizes of boulders on hills of different heights.… As the name of this Blog indicates, knols are my perspectives on topics of interests, sweet/bitter experiences or just doodling :)

Monday, June 1, 2020

کوئٹہ: مسائل کو بھلا کر، یہ امید کی گئی کہ وہ اپنے آپ غائب ھوجائینگے

کل رات کو علی آباد روڈ پر کچھ نوجوانوں کو خواتین سے چھیڑ چھاڑ کرنے، اور انکے تصاویر بنانے پر مشتعل ھجوم نے پکڑ کر تشدد کئے، جس کے نتیجہ میں، غالبا ایک شخص جان بحق، اور دو زخمی ھوئے۔ اس واقعے پر اظہار رائے کرنا، "آ بیل، مجھے مار" کو دعوت دینے کے مترادف ھیں، کیونکہ، لوگ اس معاملے کو معاشرتی مسئلے کے بجائے، نسلی، لسانی اور مسلکی بنیادوں پر دیکھنے کو ترجیح دیتے ھیں۔ مجھے اس واقعے کے تفاصیل معلوم نہیں، اسلئے میں افواھوں کو پھیلانے اور گماں آرائی کرنے کے بجائے، اس واقعے سے متعلق اپنے ذاتی خیالات اور مشاھدات کو شیئر کرونگا

پہلی بات یہ ہے، کہ اس غیر انسانی عمل کو لسانی یا ایک برادری کے مسئلے کے طور پر دیکھنا، اسکے نیچے چھپے مسائل کو نظر انداز کرنے کے برابر ھیں۔ میں بھی اسی معاشرے میں بڑا ھوا ھوں، اسلئے مجھے پتہ ہے، کہ اس نیم قبائلی معاشرے میں لوگ اپنے نسلی اور مذھبی تعصب کو وقتی تسکین دینے کی کوئی فرصت ھاتھ سے جانے نہیں دیتے ھیں۔ اور یہ افسوسناک رویہ، اس تیزی سے بدلتے معاشرے میں جنم (اور تیزی سے پنپنے) والے مسائل پر کھلے عام گفتگو اور انکے حل کے اسباب ڈھونڈنے کو تقریبا ناممکن بنائے ھیں۔ لوگ ایک شہر میں تو رھتے ھیں، لیکن، انکے تعلق صرف اپنے قبیلے تک محدود ھیں۔ کرونا کے وباء کے دوران، قرنطین سینٹر کو جلانے، اور ھسپتالوں سے رجوع کرنے والے مریضوں کو انکے لسانی اور نسلی شناخت کی وجہ علاج کرنے سے انکار کرنے کے غیر انسانی واقعات اس شہر آفت کے حقیقی چہرے ھیں۔

اس تمہید کا مقصد، کل ھونے والے اس غیر انسانی عمل کو جواز دینے کے کوشش نہیں۔ پچھلے بیس سالوں کے قتل عام کے دوران، اس چھوٹے سے کمونیٹی نے بہت منظم کوشش اور صبر و استقامت سے، اپنے نوجوانوں کو ری ایکشنری بننے سے روکنے میں کامیاب رھے۔ انوا‏ع و اقسام کے شدت پسند گروھوں کے نشانے پر رھنے، اور ایک اچھے مست‍قبل کے سارے دروازے بند ھونے کے باوجود، اپنے جوانوں کو شدت پسندی کے لعنت سے بچائے رکھا۔ کیونکہ، انہیں معلوم تھے، کہ شدت پسندی اور تعصب وہ اندھا بلا ھے جو وقت کے ساتھ ساتھ، اپنے اور پرائے میں فرق کرنے کے صلاحیت کھو دیتے ھیں۔ کل کے ھونے والے واقعہ کو ھمیں، دو دھائیوں کے کامیاب کوششوں میں پڑنے والے دراڑ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ھیں، اور یہ ھم سب کیلئے انتہائی تشویش کے سبب ھونے چاھئیے۔ معاشرتی تبدیلی کو تشدد کے ذریعہ روکنے، یا معاشرتی مسائل کو تشدد کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش، ایک خطرناک رجحان ہے۔ (مذمتی بیانات، لعن طعن اور مخاصمت سے وقتی تسکین تو ھوسکتے ھیں، لیکن اصل مسئلہ باقی رھیگا، اور شاید بڑھ کر ناسور بن جائیگا) میں سمجھتا ھوں، کہ کل کا واقعہ بہت سے مسائل کو کافی لمبے عرصے سے دبائے رکھنے کا نتیجہ ہے۔ میں یہاں دو باتوں کی نشاندھی کو ضروری سمجھتا ھوں

۔ کوئٹہ ایک نیم قبائلی معاشرہ ہے، جہاں قبائل الگ محلوں میں رھتے ھیں، اور لوگوں کے اپنے اطوار ھیں، جنہیں وہ بہت عزیز رکھتے ھیں۔ بدقسمتی سے، یہاں لوگوں کے ثقافتی دن اور انکے زبان کے دن تو منائے جاتے ھیں، لیکن انکے اقدار کے بارے میں آگہی اور انکے احترام نہیں سکھائے جاتے ھیں۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کے عزتوں سے مذا‍‍‍‍ق، اور اپنے تعصبات کے تسکین کیلئے لوگوں کے ‏عزت نفس سے کھیلے جاتے ھیں۔ اس سے کافی لوگوں میں اشتعال پائے جاتے ھیں۔ اسی طرح، اس نیم قبائلی معاشرے میں، جب لوگ انکے محلوں میں گھومنے آتے ھیں، تو وہ انکے معاشرتی اقدار کو نظر انداز کرتے ھیں۔ ایسے میں تشدد، ایک طرح سے شنوائی کیلئے توجہ دلاو نوٹس ہے ۔ میں پھر سے دھرانا چاھتا ھوں، میں تشدد کے خلاف ھوں اور یہاں میرا مقصد ایک غیر انسانی عمل کو جواز فراھم کرنا مقصد نہیں، بلکہ، میں چاھتا ھوں، کہ جذبات کے رو میں بہہ کر، اگر ھم، اصل مسئلے کو جوں کے توں چھوڑا، تو اسطرح کے واقعات ھوتے رھینگے۔ برائے مہربانی، لوگوں کے زبان اور ثقافت کے ساتھ ساتھ، انکے اقدار کے احترام کو منایا، اور انکے احترام کو سکھایا جائیں۔ یہ شہری زندگی کا لازمہ ہے، اور کوئٹہ کو آج نہیں، تو کل پرسوں ضرور عمارتوں کے شہر سے گذر کر، انسانوں کے شہر بننے کے سفر طے کرنا پڑیگا۔

۔ دوسری بات یہ کہ، پچھلے کئی سالوں سے یہ چھوٹی سی کمونیٹی حکومت سے اپیل کرتے رھے ھیں کہ دو دھائیوں کے قتل عام، مہاجرت کے وجہ سے اپنے ‏عزیزوں سے دور رھنے کے تکالیف، روزگار، تفریح اور بہتر تعلیم کے موا‍قع کھونے کی وجہ سے مستقبل سے ناامید نوجوانوں، اور سب جیل میں قید رھنے کی وجہ سے، لوگ انتہائی ذھنی دباو کے شکار ھوکر نت نئی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ھو رھے ھیں۔ نیم قبائلی معاشرے میں، نفسیاتی بیماری گالی کے برابر سمجھے جاتے ھیں اور لوگ، اس کے بارے میں بات کرنے اور علاج کرنے کے بجائے، تکلیف میں جینے اور دوسروں کو تکلیف دینے کو ترجیح دیتے ھیں۔ ھونے تو یہ چاھئے تھی، کہ قتل عام کے متعلق، حکومت اپنے تفصیلی موقف کو لوگوں کے سامنے رکھتے، اور لوگوں کو انصاف کے فراھمی میں حکومتی کارکردگی سے وقتا فوقتا آگاھی دیتے رھتے۔ دو دھائی کے کمر شکن اقتصادی نقصان، آئسولیشن سے باھر نکالنے، اور انکو پھر سے صوبے کے اقتصادی چرخے میں فعال کردار کرنے کیلئے بھرپور اقدامات، اور اسی طرح پچھلے دو دھائیوں میں غیر معمولی حالات میں رھنے کی وجہ سے مختلف جسمی اور نفسیاتی بیماریوں کے شکار اس کمونیٹی کے دوبارہ بحالی کیلئے، بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور علاج و معالجے کے سہولیات فراھم کرتے، لیکن، ان سب اقدامات کے بجائے، انہیں سب جیل میں قید کرکے بھلا گیا۔ آنکھیں بند کرنے سے مسائل غائب نہیں ھوجاتے۔

کل کا یہ انتہائی قابل مذمت اور غیر انسانی واقعہ، ان سب مسائل کی موجودگی کا ایک اظہار تھا۔ جو کمونیٹی پچھلے دو دھائیوں سے اپنے آپ کو منظم رکھنے اور سارے مسائل کے انبار کو کسی نہ کسی طرح سے قابو میں کئے رکھا تھا۔ اب لگ رھا ہے، کہ یہ بریکنگ پوائنٹ تک پھنچ رھاہے۔ ایک ھزارہ ھونے کے ناطے، میرے لئے، یہ ایک ڈورانے خواب سے کم نہیں۔۔۔

Thursday, April 16, 2020

Update: The mini-greenhouse project

Today's plan was to sow some oak-leaf greens in the mini-greenhouse. But last night, it snowed. It is a beautiful morning but as we are expecting a couple of more chilly nights in the coming week, I thought it would be wise to wait a few more days. 

The snow from last night
Following is a short video of this morning. It's sunny and the temperatures are pleasant. Birds are singing. Last year's seedlings look like young trees (they had young leaves and I hope last night's snowing does not damage them) and I hope that next year I will be apple to use some of them as rootstocks. It is a learning process and the purpose of sharing this story is to share that process. 



Wednesday, April 15, 2020

Project: Using scrape woods from backyard to make a little "greenhouse" for greens

We are two weeks away from the last frost day (May 1st) in the Upstate New York and it is about the time to get the garden ready for some vegetables. Two years ago, I built three mini-greenhouses for my apple seedlings. Managing the greenhouses has been easy and the apple seedlings have liked those mini-houses. I re-homed most of the seedlings last year, which made the greenhouses available for the new sprouts (had plenty of apple and cherry sprouts). Based on those experiences, I decided to make a mini-greenhouse for the greens from the scrape woods that I had. Following is the description of the project:

Step-1. I looked around my backyard to find suitable scrape-wood from previous projects. Luckily, I found some leftover pickets, four-by-fours, and spline-woods. 
Some leftover wood from last year's project. 
Step-2. I cut the pickets and the four by fours (Pickets length 36 inches).
Cut pickets and four by fours.
Step-3. Organized the pickets (to get a mental picture of the project just to make sure I had all I needed) and four by four for the sides/walls of the greenhouse. 
Organized the related pickets and associated four by four to get an early peek of the project
Step-4. Laid the four-by-four and nailed the picket to the four-by-four (as nailing picket was easy and I had better control).
nailed a picket to the four-by-fours
Step-5. Repeated the step-4. Now, I had two sides/walls ready.
By repeating step-4, I got two sides of the green-house.
Step-6. By nailing the two remaining pickets to the two walls, I got sort of the four walls of the green-house.
Nailed two pickets to the side-walls. 
Step-7. Now, it was the time for nailing the spline-woods so I could get a basic cube-shaped wooden-item that would enable me to cover it with a plastic sheet. I had spline-wood for three-sides but for the fourth-side; I didn't have long-enough-spline-wood (luckily I could nail it the side-wall).
One of the spline-wood was shorter

I managed to nail the short-spline-wood to the four-by-fours
Other splines were the lengths I needed
Step-8. It was time to test the length of the plastic cover. Unfortunately, the plastic roll that I had wasn't wide enough to cover all sides. I had to staple a piece of plastic to one side and that solved the problem. 
Stapled plastic to one-sides.
Step-9. I leveled off the ground and installed the green-house. It was getting dark, so I called off the day. 

Leveled off the ground and installed the green-house. 
I didn't cover the "greenhouse" by plastic yet. Tomorrow, after sowing the oak-leaf greens, I will cover it with plastic. The aim of project was to use the scrape-wood to make a mini-greenhouse. It took me about an hour or so to put it together, and I spent no money on it, either. The purpose of posting this project on this blog is to inspire the readers to create their own mini-greenhouses and use their backyards to grow their own vegetables (The flowers will also provide food to the visiting insects and birds).

HAPPY SPRING!!!

Sunday, December 8, 2019

The East Side Story Versus Broadway Story

Around 9 AM I left the train-7 and walked from 8th Ave to 5th Ave through Broadway. Noticing the crowd of people that hurried to their jobs in the shades of the tall buildings, and particularly by seeing the food delivery guys on the bicycles, the "East Side Story" of Dr. Coppens popped in my mind and I kept thinking all the way about it. The East Side Story goes like this:

Plate tectonics (along with magmatism) has been at work to tear apart the African plate into the Nubian and Somali plates. The speed at which these two plates are diverging is only 6-7 millimeters per year but even at that slow pace, it played its roles in splitting the hominin into the separate species of the humans and chimpanzees (Plate tectonics is not all about splitting things. It also closes and makes things disappear. For instance, it is closing the Persian Gulf and one day there will be no more Persian gulf and the geopolitical maneuvering over its control). 

Back to the story. 

Around ten to five million years ago the rift valley in East Africa created a barrier between the hominin groups. The chimps remained in the south in their natural environment, that was the forest of the south, while the human-ancestors made small groups who faced new challenges as a result of the changes in their ecosystems. The rift valley changed the course of the winds loaded with water-vapors and hence East Africa became drier (also around 7 million years ago, some Tethys sea remnants closed and a result the monsoon weakened and the young Sahara desert appeared. It is noteworthy that some remnants of the Eastern Tethys sea still live, such as the Caspian Sea, Aral, and Black sea.) The plain and dry climate favored an upright posture for long-distance walks, the loss of hair and sweating to cool off the body in the heat. The head mostly kept the hairs to provide shed and protect the skull and openings in the skull such as eyes. Several species of hominin appeared and went extinct. In the process of human evolution, several physical and behavioral traits were favored such as, upright walk, bare-skin, shift from polygamy to monogamy, partnership, and division of labor between the male and female and also the closing gaps between their body sizes (compared to chimps populations, where males are bigger, promiscuous in their relationships and foods are not shared). 

While there are other climate-change stories such as “aquatic hypothesis” and also the results of the soils from the area questions the climate change story (The soil samples in the Tugen Hill region of the rift valley didn’t show a sudden change from forest to savanna during ten to five million years), still, the overall pattern favors a climate change story that caused the evolution of the humans. 

Back to the walk on the Broadway:

Walking on Broadway, I thought about the East Side story of human evolution. Ten to five million years ago, the change in climate favored certain traits. Now we are witnessing accelerated changes in both the climate and our environments. What kind of physical and behavioral traits are favored by the current changes? That was a big question mark in my head while I looked around me to see the patterns:

None of the surrounding people walked in the desert or climbed on the trees. They didn’t face the heat, fear of getting hunted, or likewise wasn’t on their way to collect or hunt for food. The hair on the skull was no more needed as all the fancy head-coverings could work better than hair. Brains took the highest work-load in the current environment and the amount of the energy that was consumed to maintain the hair was unnecessary as it had lost its basic function of providing shade. Balding or white-hair is likely the future of humanity. The coffee was a puzzling issue. I noticed a lot of people holding their coffee cups, a clear sign in shift in the food choices of humans. The humans are no more consuming food for survival but a large portion of food is keep the brain alert or meet its demands for more dopamine or pleasure chemicals. Most of people's ears were hooked to their phones. Supplying the brain with pleasure chemical by listening to music while walking to work were another sign of the primacy of brain in the lives of modern humans. The brain has become the major consumer organ in the body of modern humans. I wondered if combined the rate of accelerated consumption by brain with the outsourcing most of the brain functions such as memory, calculations, and communication to computers, the human brain slowly evolve become mostly a pleasure seeking organ??????  TO ME THIS IS A BIG PUZZLE....... 

The partnership between males and females was also no more needed as I could see both males and females went to work and there were fewer pairs. If it is happening, it is a slow process and maybe in hundreds of generations; the results become more obvious. But the process has begun (it is happening all the time) and at the risk of repeating myself, the male and female partnerships for food production, storage, and distributions are no more needed. The businesses and corporations are doing all those work more efficiently. You need not go hunting for lunch. They deliver it to you. The development process is going to slow down even further. A decade or a decade and a half of the schooling is no more able to meet the needs of the current human societies (Human development became slow so the kids could have time to learn necessary skills from parents or members of the tribes to survive in savanna, desert, villages, and proto-cities. A decade of schooling was needed to acquire skills needed to survive in modern industrial societies.). Soon, lifetime learning will be needed for survival. Even toddlers have been hooked to the screens and their brains demand for the serotonin overload. Most of the body is ignored at the cost of the brain….. 

In the East Side Story, the climate change came to hominin. In the Broadway story, humans are bringing the environmental (also climate change) to themselves. The concrete buildings have replaced forests, grasslands, and deserts. Our work is no more to collect food but to collect money. The division of labor between sexes is politically incorrect (I intentionally used this terminology because I don't expect something like that in the chimps society. Learning about what is politically incorrect or correct is the examples of the behavioral complexity that require education or in other words, slowing down human development. When you read news and you see a report where it mentions that A failed to tell the truth about B, instead of straightly, he lied, is another example of the behavioral complexity -While it is argued that humans have instincts/genes for grammar, we need to learn the complexity of expressions that vary across cultures even in the same society-... I can go on and on but I think those two examples suffice to illustrate the increasingly complex behaviors that human babies need to learn to survive) , digital walls have been erected between human interactions, and the brains are constantly screaming for chemical rewards…. What Broadway humans will look down the road? Perhaps, we let Hollywood do the thinking for us. WHICH IS HAPPENING MOSTLY. AS I MENTIONED EARLIER, PERHAPS OUR BRAINS ARE BECOMING MOSTLY A PLEASURE SEEKING ORGAN BECAUSE OF IMMENSE BOMBDARDMENTS OF PLEASURE CHEMICALS ON DAILY BASIS????

Monday, September 9, 2019

قبیلہ ھای شہری


غالبا بودن در یک گروه اجتماعی ادامه بقاء را بیشتر و خروج از گروہ اجتماعی خطر مرگ یا معدوم شدن را برای جانداران اجتماعی بیشتر می کند۔ برای ھمین شناخت ھای اجتماعی مانند فرهنگ، قومیت، ملیت، آیدال های سیاسی و مذهبی جزوہ عمیق روان انسانی (کہ یک موجود اجتماعی است) شدہ است، و افراد، به عنوان واحدهای یک جامعہ، نقد بر اینها را مانند حملہ بر وجود خود می پندارد۔

در عصر اینترنت، کہ عصر بمباردمان شدن روزانه افراد با اطلاعات و همچنین تبلیغات بازرگانی و سیاسی است، شناخت ھایی سنتی یا در حال فروپاشی هستند و یا هم در حال بازسازی هستند۔ یک بخش بزرگ بازسازی شناخت ھای سنتی شامل بازخوانی واقعہ های تاریخی میشود۔ اینچا باید یاد آور شوم، که تاریخ به معنای نقل واقعات، فقط یک مغالطہ است، حتی اگر این واقعہ امروز صبح اتفاق افتاده باشد، و هزاران افراد شاھد آن باشند، باز هم، ھر شاهد عینی که آن واقعه را بیان کند، بیان آن شخص، روایت شخصی آن فرد، از آن واقعہ است، و برداشت هر فرد از یک واقعہ می تواند مختلف باشد۔ تذکر این مطلب برای مصرف کنندگان اینترنت، یک حرف تکراری است، چرا که هر مصرف کننده، بناء بر تجربہ ھای فردی می داند کہ، برای دانستن نزدیکتر بہ حقیقت، از گزارشهای یک وقوعہ، باید دنبال چندین منابع برود تا بتواند چراھای خود را پاسخ بدھد۔ ‍

:آمدم بر سر مطلب

یک بخش بزرگ افرادی کہ در شهرهای بزرگ زندگی می کنند، شناخت ھای سنتی خود را در حال از دست دادن هستند۔ از آنجایی که، حس داشتن تعلق بہ یک گروہ اجتماعی، ریشه عمیق در روان انسان دارد، بخشی تلاش می کنند، تا شناخت ھای جدیدی بسازند و یا ھم در تلاش یافتن شناخت جدید هستند، کہ با فرهنگ شهرهای بزرگ همخوانی دارند۔ این تلاش ھا منجر بہ راہ اندازی قبیلہ ھای شہری شدہ است۔ شبکہ ھای اجتماعی، ایجاد و توسعه اینچنین تلاش ها را تسهیل می کنند۔ برای مثال، شناخت با "ما نود و نو درصد هستیم"، "من ھم (هشتگ)"، "پرچم رنگین کمان (دگرباشان)"، "جنبش حقوق حیوانات"، "وگانیسم و زیر بخش ھای آن"، "جنبش ارگانیک"۔۔۔۔۔ و امثال دیگر نمونہ ھایی از اشکال ابتدایی قبیلہ ھای شھری ھستند۔

بناء بر تنوع فرهنگی جامعه مسلمین، ھر گروه فرهنگی، مراسم عاشوراء را بہ سبک خودشان اجرا کرده اند و میکنند۔ حال، ما شاھد شکل گیری قبیله های شہری در مراسمات عاشورایی نیز هستیم، "جنبش حسین کیست؟"، "اهدای خون بجای قمہ زنی"، "بازاندیشی روایات کربلاء"،۔۔۔۔۔۔۔ نمونہ ھایی از این تلاش ھا ھستند۔

:نتیجہ گیری

با گسترش شہرھا، مهاجرت ھا بسوی شہرھا، گسترش و سہل دسترسی در شبکه های اجتما‏عی، و ناپید شدن دیہات ھا، قبیلہ ھای شہری منسجم تر خواهند شد۔ در این میان، افراد سہ انتخاب دارند، تلاش مثبت برای مفید ساختن این قبیلہ ھا، بی طرفی، و یا ھم روی آوردن بر "ترول گری" تحت هر عنوان که باشد۔