One's personality is both a composition and reflection, but if I have to choose one of them, I will choose reflection as the "self" is more important to me than "me". One's composition may change, walking across the cultural landscapes and climbing the social ladder but one's self is tied to one's reflections. The fun part is that reflections are not bound to "Time-Space" barriers ( it is not time-space) and respective mental constructs, which have grown so thick over ages, that they had reduced the image of humans to Sisyphus, rolling different sizes of boulders on hills of different heights.… As the name of this Blog indicates, knols are my perspectives on topics of interests, sweet/bitter experiences or just doodling :)

Thursday, July 20, 2017

آپ ھزارہ کیلئے بہت کچھ کرسکتے ھیں


ھم ایک ایسے دور میں رہ رھے ھیں، جہاں بعض قومیں، اپنے معاشرہ کے پسے ھوئے اور کمزور لوگوں کو خصوصی رعایات دیتے ھیں تا کہ نہ صرف وہ کسی کا محتاج نہ رھے بلکہ خود کو کسی سے کمتر اور اس معاشرہ سے الگ محسوس نہ کرے. اگرکسی خاص بولی، رنگ، نسل، عقیدہ، مذھب کے حامل لوگ کم تعداد میں موجود ھیں تو انکو، تعلیمی درسگاھوں، ذراعت، صنعت، چھوٹے کاروبار میں مدد فراھم کرتے ھیں تا کہ نہ صرف انکے احساس محرومی کا ازالہ ھو، بلکہ وہ لوگ خود کو اس معاشرہ کا حصہ سمجھ کر، اس معاشرہ کے ترقی میں اپنا حصہ ڈالے. پہلی نظرمیں تو شاید لوگوں کو یہ لگے، کہ معاشرہ کے محروم حصوں کے مدد سے اکثریت کے حقوق کو ٹھیس پہنچتے ھیں، لیکن، آج تک جتنے بھی سروے ھوئے ھیں اس سے یہ بات ثابت ھوئے ھیں کہ جس معاشرہ نے بھی پسے ھوئے یا اقلیتی لوگوں کی حوصلہ افزايی کی ھیں، اقلیتی لوگ اس معاشرہ کو تعلیمی، اقتصادی، تحقیقی، صنعتی اور دفاعی میدانوں میں کئی گنا زیادہ فایدہ پہنچایا ھے۔ ان معاشروں کے اخلاقی جرات کسی آسمانی کتاب سے ھدایات کا نتیجہ نہیں، بلکہ وہ معاشرہ کے خیرخواھوں کے لمبے جدوجہد کے نتیجے ھیں۔ محقق اور دانشور اپنے تحقیقوں سے لوگوں کے شکوک و شبہات کے جواب دیتے رھے، تو سوشل ایکویسٹس لوگوں کو قریب لانے اور ان میں آگاھی پیھلانے کیلئے جدوجہد کرتے رھے اور سیاستدان قوانین بناتے رھے۔ ایسے معاشروں میں، انسانوں کے جان و مال کے علاوہ، جنگلی پودوں، جانورں، پانی، زمین اور ھوا کو بھی نقصان پہنچانا جرم ھے. حتی کہ اگر حکومتی اقدام، یا غفلت سے بھی کسی کو مالی یا جانی نقصان پہنچتا ھے، تو وہ شخص یا لوگ حکومت سے ھرجانہ کا مطالبہ کرسکتے ھیں۔ 

مجھے پتہ ھے کہ لوگ ان چیزوں کو بخوبی جانتے ھیں مگر یہ یاد دھانی اس لیے کرنے پڑرھے تا کہ بلوچستان کے ھزارہ قبایل کے ساتھ جو ھو رھے ھیں، اسکا کچھ موازنہ پیش کرسکوں اور حکومت، سیاسی جماعتوں، قبایلی عمائدین، علمائے دین، دانشور اور روشنفکر طبقے، صحافی حضرات، وکلا، تاجر اور معاشرہ کے ھر صاحب احساس بندہ کو انکے ذمہ داریوں کا احساس دلاسکوں، اور یہ بھی بتاسکوں کہ فیس بوک پر افسوس کرنے، اخبار میں مذمتی بیان دینے اور فاتحہ پڑھنے سے آگے بڑھ کر، آپ بہت کچھ کرسکتے ھیں؛ 

آپ پچھلے ڈیڑھ دھائی سے زیادہ، بریکنگ نیوز کے صورت یا کچھ لائنوں پر مشتمل خبروں کے ذریعے، کوئٹہ اور مستونگ میں ھزارہ مسافر، مزدور، ڈرائیور، سبزی فروش، علاج کے کیلئے آنے جانے والے مریضوں، طالبعلموں، استادوں، تاجر پیشہ حضرات، زائرین، ڈیوٹی کیلیے جانے والے سرکاری ملازمین، رشتہ داروں سے ملنے، یا سودا خریدنے کیلیے آنے جانے والے خواتین اور بچوں کے قتل سے ضرور آگاہ ھوتے رھيں ھونگے۔ چند منٹوں کیلئے، شاید آپکا ضمیر جاگتا ھوگا اور آپ افسوس کیے ھونگے، یا شاید مذمت کیلیے سوشل میڈیا میں چند جملے بھی لکھ چکے ھونگے، لیکن، ھزارہ کے قتل عام سے بڑے مسائل آپ کے توجہ کے طلبگار تھے، جیسے کہ، انڈیا اور پاکستان کے فائنل میچ، شریف خاندان کے خلاف کرپشن کے الزامات، راحیل شریف کے ریٹائرمنڈ کے بعد بیرون ملک ملازمتیں، قندیل بلوچ کے قتل کے بعد لیجنڈ بننا، ایران اور سعودی کے جھگڑے اور اس طرح کے بیشمار ملکی مسائل جو یقینا پانچ لاکھ کے قریب لوگوں کے جسمانی، معاشی، تعلیمی اور معاشرتی قتل عام اور درد و کرب سے کہیں گنا زیادہ اھمیت کے حامل تھے۔ 

جو ھزارہ، اپنے چھوٹے سے آبادی کے تناسب سے دفاع، کھیل، انتظامی امور اور تعلیم میں صوبہ اور قوم کو قدرآور شخصیات ديے تھے اور جو آج بھی بیرون ملک سے اپنے پسینہ کی کمایی بھیج کر، صوبہ اور ملک کے اکانومی میں اپنے حصے ڈال رھے ھیں، انکے طالبعلم شہر اور صوبہ کے تعلیمی اداروں میں نہیں جاسکتے، انکے تاجر، شہر سے اپنے کاروبار کو لپیٹ کر، اپنے گلی محلوں میں کاروبار کرنے پر مجبور ھیں، والدین اپنے بچوں کے حفاظت کیلئے اپنے گھر بیچھ کر، جمع پونجھی خرچ کرکے، یا قرضہ لیکر، انہیں ملک سے باھر بھیجنے پڑھ رھے ھیں، جن نوجوانوں کو پڑھ کر صوبہ کے ترقی میں اپنے کردار ادا کرنے تھے، وہ کیمپوں میں ٹھوکرے کھا رھے ھیں، جن گھروں سے باپ، بیٹا اور بھائی چھینے گئے ھیں اور جو لوگ زخمی ھوئے ھیں، انکے درد، کھرب اور معاشی مسايل سے کس کو خبر ھیں، ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس جیسے اور مسایل. ان سب کے باوجود، ھزارہ لوگوں کو حفاظت کے نام پرانکے علاقوں تک محدود کیے ھیں۔ شہر کے پارکوں اور صوبہ کے صحت افزا مقامات میں سیر کے بجائے، لوگ قبرستان میں چہل قدمی کیلئے جاتے ھیں اور دنیا میں شاید، کوئیٹہ کے ھزارہ واحد لوگ ھیں کہ انکے قبرستان ھی انکے چہل قدمی کےلیے باقی بچے ھیں. 

سئوال یہ ھے، کہ ھزارہ قبايل کو احساس محرومی اور بیگانگی سے نکالنے کیلئے، آپ کیا کرسکتے ھیں؟ انہیں انکے احساس امن کو دوبارہ کیسے بحال کیا سکتا ھے اور انہیں انکے محصور علاقوں سے نکال کر، دوبارہ تعلیمی اداروں، سپورٹس گراونڈز، شہر کے کاروبار ميں شرکت، وغیرہ، وغیرہ کیلیے، آپ بحیث ایک انسان کیا کرسکتے ھیں. 

یقین مانیئے، اگر آپ چاھے، آپ بہت کچھ کرسکتے ھیں؛ 

آب بول سکتے ھیں. آپ سئوال کرسکتے ھیں. آپ لکھ سکتے ھیں، اور اس سے بہت کچھ بدل سکتے ھیں؛ 

آپ سیاسی جماعتوں کو بول سکتے ھیں کہ نفرت پھیلانے کو قابل سزا جرم بنانے کے لیے قانون سازی کرے تا کھلے عام نفرت اور اشتعال پھیلانے کو روک سکے، آپ حکومت سے اور معاشرہ کے با اثر افراد سے پوچھ سکتے ھیں کہ وہ ھزارہ قبایل کو محاصرہ سے نکالنے اور انکو معاشرہ میں دوبارہ فعال کرنے کیلیے کون سے حوصلہ افزا اقدامات کئے ھیں اور کرینگے. آپ لکھ کر لوگوں میں آگاھی پھیلا سکتے ھیں. 

میں، یہ مانتا ھوں کہ صبح کو اٹھ کر، مغربی معاشروں جیسے اخلاقی جرات تو نہیں پیدا کرسکتے کہ معاشرہ کے تمام محروم اور کمزور طبقات اپنے کو کمتر اور مجبور محسوس نہ کرے، لیکن، کم از کم ھم جن اقدار کا پرچارک ھیں، وھاں سے تو شروع کرسکتے ھیں۔ چاھے آپ قبایلی روایات کا پرستار ھیں، یا اسلامی اقدار کا پیروکار یا آپ پاکستان کے آئین کا وفادار. ڈیڑھ دھائی سے جاری قتل عام اور اجتماعی قید آپ کے روایات، اقدار اور آیین کے روح پر بہت بڑا سئوالیہ نشان ھے. آپ اسکو نظر انداز کرسکتے ھیں، تاویلات پیش کرسکتےھیں، لیکن، ایک ایسے دور میں، جہان مغربی معاشرے، دنیا کے بھر کے خستہ حال لوگوں کو پناہ دے کر، انکو اپنے اپنے معاشروں کا حصہ بنانے کے کوشش کرتے ھیں، آپ اپنے ھی معاشرہ کے لوگوں کو، شکل، زبان اور مسلک کے بنیاد پراجتماعی سزا دے کر، کسی بھی معیار کا دعوی نہیں کرسکتے. 

Wednesday, July 19, 2017

پاکستانی عوام اور سیاسی جماعتوں سے اپیل



بلوچستان کے ھزارہ قبایل کے پندرہ سالوں کے قتل عام میں، نہ تو کسی مجرم کو سزا ھوئی ھے، اور نہ ھی کسی قسم کی قانون سازی. قاتل آزادی سے گلی، کوچوں، بازاروں، جلسوں، مساجد، مدرسوں، اخبارات، سوشل میڈیا اور ٹی وی پر ھزارہ قبایل کے خلاف نفرت کے کھلے عام تبلیغ کرتے ھیں۔ نفرت کے یہ تبلیغ، ھزارہ قبایل کے قتل عام کے ایک بنیادی وجہ ھے اور جو بھی شخص، کسی بھی حیثیت میں، نفرت کے تبلیغ کرتے رھے یا کر رھے ھیں، وہ اس قتل عام کے جرم میں شریک ھیں۔ حکومت، پندرہ سالوں میں کسی قاتل کو سزا نہیں دلا سکی اور اسکے بجائے، حفاظت کے نام پر ھزارہ قبایل کے علاقوں، ھزارہ ٹاون اور علمدار روڈ کو عملا کیمپ میں بدل دیئے ھیں۔ کیا پاکستان میں قاتلوں کے گرفتاری اور سزا نہ دلوانے کے ناکامی پر قانون نافذ کرنے والوں کے نااھلی اور حکومت کیلئے خساير کے اذالے کے قوانین موجود ھیں؟


کیا اسکا وقت نہیں آیا ھے کہ صوبایی اور قومی سیاسی جماعتیں مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر، ھزارہ قبایل کے خلاف نفرت پھیلانے کو قابل سزا جرم بنانے کی قانون سازی کرے؟ کیا اسکا وقت نہیں آیا ھے کہ پاکستانی عوام، حکومت سے ھزارہ قبایل سے معافی اور انکے نقصانات کو پورا کرنے کا مطالبہ کرے؟ مانتا ھوں کہ یہ بڑے مطالبات ھیں، مگر انکے حصول کیلئے کم از کم جدوجہد تو کرے۔ اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں سے درخواست کرتا ھوں کہ وہ اپنے نمایندوں سے قانون سازی کا مطالبہ کرے اور سوشل ایکٹویسٹ سے اپیل کرتا ھوں کہ وہ قانون سازی کیلیے مہم چلائے۔۔۔

Sunday, July 9, 2017

An Argument for "Cultural Regeneration"

I understand:

Whenever I walk in a woodland or a forest, I look for seedlings. Why? The presence and absence of seedlings tell me if the forest is regenerating or rotting; 

You see, in my lifetime, I have witnessed a modern dominant global culture (Soviet Union) rot and collapse. Believe it or not, in Quetta, where books were very scarce at the time, I found books printed in the former Soviet Union in the piles of garbage and bought them by weight from the garbage collectors (tens of meters away from Baluchistan University). Those were books that were looted from libraries when Kabul fell to "Mujahiddin". 

I also witnessed another modern regional culture that was born from the marriage of dying Mughal culture and ruling Colonial British culture (now known as Pakistani Culture) to lose its form under grinding forces of cold-war and reduce into a patchwork. 

I grew up believing that the Middle East was a unique place in the sense that it was the birthplace of three dominant global religions, Judaism, Christianity, and Islam. But I never imagined, how badly rotten were its cultures, until, the attempts were made to bring forced "spring" (As it was called Arab Spring) to the region by imposing liberal democracy. In the new Middle East, all we witnessed was the fast growth of psychedelic and poisonous culture of ISIS.

All along, I read and listened to the story of Western Liberal democracies as creators of the modern world. The epic stories of cultural battles like the renaissance, state nations, colonialism, world wars between democratic-colonial-powers and fascist-colonial-powers, the cold war between capitalism and communism, globalization and finally the "end of history" by the emergence of the US as the final victor. The stories of Western modern democracies are looked upon as models for the refurbishing of dying cultures around the world. But it seems, the explosion of Middle East has seriously shaken the confidence of the Western World. I hear the voices that are doubting the universality of its ideals are growing loud and louder. 

When I walk into a woodland or a forest, I look for the seedlings. Why? The presence and absence of seedlings tell me if the forest is regenerating or rotting; 

It happened many times that when I speak in Hazaragi with Quetta accent, some get offended. Some advised me to write in "pure" Hazaragi (I don't know what that means since there are many dialects of Hazaragi spoken in different areas). Some asked me to correct my language by speaking in modern Farsi (They consider Hazaragi as an archaic Persian language that needs to be standardized). I hear voices who think Urdu and English should be our priority to facilitate communications with regional and global communities. 

Partially, I agree with all these arguments as the people who advocate them have genuine concerns but let me make my point here;

Why do I speak in Hazaragi with Quetta accent while I can speak modern Farsi that's a regional language? 

The answer lies in my concept of "cultural regeneration": 

I see Hazara community of Quetta as a living "Statue of Resilience" that has stood firm against all odds and not only hasn't lost its original form but is going through the process of refinement. While the world around the community is collapsing and it has been targetted regularly by the forces who see the community as a misfit. But it has never turned itself in turtle mode of defense. It's an open community that is learning from all around of the world. It's a seedling that has survived so far. 

I understand that engines of global changes are in the cosmopolitan cities of the world. But those engines are churning to produce only market standard cultural products that are profitable. They can't afford to produce products that are not marketable. 

It's probably just me (and I may be somewhat biased here), but I think that young, small and open communities with the global outreach that living on the fringes are going to be the engines of modern cultural diversity. I know, there are hundreds (probably, thousands) of small communities like that of Hazara Community of Quetta out there that are needed to be explored.

One more thing; Why am I giving the example of Hazara community of Quetta? Well, that's because I am more familiar with the community than other communities. 

I understand:

When people talk about standardization and integration, they have genuine concerns. But the emergence of ISIS and the serious doubts in the confidence of modern liberal democracies made me go back to forests and see how forests regenerate. 

I understand the concerns of marketability of seedlings that are not grown in the standard environments of nurseries but I also understand how forests regenerate.

Sunday, June 4, 2017

May I borrow your eyes, Please!

Ustad said, "All people are beautiful. You need to train your eyes to see them. A stylist is trained to see the beautiful features of each customer and make those features prominent enough that they become visible to other people...." 

I guessed he noticed my puzzlement and asked, "I bet you think the analogy of a writer with a stylist is very odd. right?" 

" I thought, the job of a writer is to write honestly whatever he observes and what he observes might be very ugly...??" I replied.

"That's right!" he smiled. "You have to write honestly but failing to report the beauties because the ugliness you have observed has overtaken your imagination is dishonesty..." 

I'm not in the mood to write the rest of the conversation. I remembered this chunk of the conversation as I kept staring at the following picture idly for more than half an hour and wasn't able to express my feelings. 




I need help here. Someone with better eyes, please tell me, where is beauty in this picture that I can't see. The sister and brother who were on their way towards Mariabad were gunned down by the "unknown terrorists just meters away from police check-post. Their corpses were dragged out the middle of the road and left in the dirt 😢

For last 17 years, (yes, you heard it right, seventeen years), the Hazara community of Quetta have been bombed and killed after identification in thousands by "unknown terrorists", who later called newspapers and claimed responsibility (after each incident) and vowed to kill more and yet not a single (that's right, not a single murderer has been brought to books). Once even, the terrorists held an award ceremony in the stadium close to chief minister's secretariat where they celebrated scoring centuries in the killings of the Hazara community (Yes, killing people randomly is a game to them.) 

Ustad said, "All people are beautiful."

I am sure, all people are beautiful. But currently, I am struggling to see those beauties. I have failed to train my eyes to see the beauties. I need help to see the beauties as I can't. 😞

Tuesday, August 30, 2016

دیسی ڈونلڈ ٹرمپ

ٹی وی، میگزینوں، اخباروں، روزمرہ نشست و برخاستوں اور سوشل نیٹ ورکز پر روز ڈونلڈ ٹرمپ پرپریشان کن تبصروں اور تجزیوں کے باوجود، آپ نے مجھے ٹرمپ پر کبھی تبصرہ کرتے نہیں دیکھے ھونگے. اسکی وجہ میرا "دیسی لبرلزم" یا "پردیسی مصلحت پسندی" نہیں، بلکہ اسکی وجہ وہ ھزاروں "دیسی ٹرمپ" ھیں جسے ميں بچپن سے، ھر روز سنتا، دیکھتا چلا آرھا ھوں. آج، ایسا ھی ایک بظاھر پڑھے لکھے اور بظاھر لبرل "دیسی ٹرمپ" کو میں نے اس لیے "ان فرینڈ" کیا، کیونکہ موصوف فرما رھے تھے کہ بلوچستان کی پسماندگی کی وجہ ھزارہ کمیونٹی ھے اور جب تک اس کمیونٹی کو مٹائینگے نہیں، اس وقت تک بلوچستان ترقی نہیں کرسکتا ("ان فرینڈ" کرنے کا مقصد، نفرت کو ریڈ کارڈ کرنا ھے ).  حقیقت یہ ھے کہ چند گلیوں پر مشتمل ھزارہ آبادی والے مری آباد اور ھزارہ ٹاون میں، اگر کچھ پکے مکانات بنے ھیں وہ صوبائی يا مرکزی حکومتوں کے فنڈز سے نہیں بنے ھیں، بلکہ ان ھزاروں جوانوں کے پسینے کے کمائی سے بنے ھیں جو اپنے پیاروں سے دور، پردیسی ملکوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ھیں.  

شاید کچھ دوست یہ سوچھے کہ میں ری ایکشن دکھا کر، نہ چاھتے ھوئے، انٹرنیٹ پر نفرت پھیلانے والوں کے لیے لاوڈ سپیکر کا کام کررھا ھوں. ان دوستوں کے خدمت میں پیشگی عرض ھے کہ یہ نفرت بہت پرانی اور گہری ھے. ان نفرتوں سے چشم پوشی کے وجہ سے یہ ایک ناسور کا شکل اختیار کر چکا ہے. مثالیں دینے کےلیے، میرے پاس ایسے سینکڑوں واقعات ھیں،  جن کا میں چشم دید گواہ ھوں. ان میں سے ایک واقعہ پیش خدمت ھے؛

1998 کے گرمیوں کی بات ھے. اسوقت کوئٹہ امن کے نخلستان تھے. لوگ اپنے اپنے چھوٹے بڑے دنیاوں میں گم تھے. والدہ صاحبہ کے طبیعت ناساز تھے اور میرے چھوٹے دنیا کے سب سے بڑی خواب یہ تھی کہ میں کسی دن اس قابل بنوں کہ والدہ صاحبہ کی بہترین علاج کرسکوں. بہر حال، جتنے ھمارے وسائل اجازت دیتے، کبھی والد صاحب اور کبھی میں ڈاکٹروں اور ھسپتالوں کے چکر کاٹتے رھتے. ایک ایسی ھی چکر میں، میں والدہ صاحبہ کو ایک سرکاری ھسپتال لے گیا. حسب معمول،  ڈاکٹر کے کمرے کے باھر مریضوں کے ایک لمبی قطار لگی ھوئی تھی. ھم بھی، ھسپتال کی پرچی اور والدہ کی لیبارٹری ٹیسٹوں اور ڈاکٹروں کے نسخوں کے پلندے ھاتھ میں لیے، قطار میں کھڑے ھوگئے. گئی گھنٹے، کھڑے کھڑے انتظار کے بعد آخر ھمارے باری آئے. ڈاکٹر صاحب اپنے چند مہمانوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے. میں نے سلام کیا. ڈاکٹر نے ھمارے طرف دیکھے اور کچھ کہے بغیر پھر بھنڈار میں مصروف ھوگئے. دروازہ کے قریب ایک بوڑھا ھزارہ کھڑا تھا. میں نے ان سے خیریت دریافت کی تو بوڑھا شخص کپکپاتی آواز میں کہا کہ  اسکے نمبر بہت پہلے آیا تھا، لیکن ڈاکٹر نے یہ کہتے ھوئے اسے معائنہ کرنے سے انکار کیا کہ، "جاو، افغانستان میں اپناعلاج کرو. یہ ھسپتال بلوچستان کے ملکیت ھے." اس بوڑھے شخص نے یہ بھی بتایا کہ میں نے جب ڈاکٹر کو اپنا شناختی کارڈ دکھایا تو ڈاکٹر غصہ میں  کہا کہ میں تو اس کاغذ کے ٹکڑے کو مانتا ھی نہیں. جب میں نے ڈاکٹر سے درخواست کی کہ وہ اپنے پیشہ کا احترام کرے تو ڈاکٹر صاحب، سیاسی نعرہ بازی پر اتر آئے.

لوگ صرف مولویوں کو نفرت کے پرچارک کے طور پر دیکھتے ھیں. کاش صرف مولوی "کنوینیئس کے مسلمان" ھوتے تو ھمارے غم آدھے ھوتے۔ بدقسمتی سے ، ھمارے ھاں  "دیسی ٹرمپ" کی کوئی کمی نہیں، جو بسا اوقات اپنے " کنوینیئس کے لبرلزم" کے احسانات بھی جتاتے رھتے ھیں.


نفرتیں اتنے عادی ھوگئے ھیں کہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے ھیں کہ اپنے قوم سے، دین سے، اور نظریات سے محبت کے اظہار کا صرف ایک ھی طریقہ ھے، اور وہ ھے دوسروں سے نفرت. حالانکہ حقیقت یہ ھے کہ اپنے لوگوں کے لیے دشمن کمانے والے، اپنے لوگوں کا خیر خواہ نہیں ھوسکتے.